Back to حضرت عمر

تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب

تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
تحقیق وفات حضرت عمر بن خطاب
محرالحرام میں عزاداری سید شھداء سے لوگو کی توجہ ہٹانے کی ناکام سازش
ہم نے ارادہ کیا کہ اس پر ذرا تحقیق تو کریں کہ آیا یکم محرم یوم وفات خلیفہ ثانی ہے ؟
.
۱۔ علامہ مسعودی لکھتے ہیں: حضرت عمر کو انکی خلافت کے دوران ہی میں مغیرہ کے غلام ابولولوہ نے قتل کر دیا تھا۔ اس وقت سن ہجری کا ۲۳ واں سال تھااور بدھ کا دن تھا جب کہ ماہ ذی الحجہ کے اختتام میں چار روز باقی تھے۔
(مروج الذہب جلد۲، صفحہ ۲۴۰)
.
۲۔علامہ دنیوی لکھتے ہیں: ماہ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کی چار راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر جمعہ کے روز رحلت فرما گئے۔
(اخبار الطوال صفحہ ۱۳۹)
.
۳۔ علامہ محب الدین طبری لکھتے ہیں: آپ نے ۲۶ ذی الحجہ کو وصال فرمایا۔ بعض نے کہا کہ اس تاریخ کو زخم آیا تھا اور وفات آخری ذی الحجہ میں ہوئی۔
(ریاض النضرہ جلد ۲ صفحہ ۳۳۵)
.
۴۔ مشہور مورخ طبری لکھتے ہیں: آپ نے چہار شنبہ کی شب کو ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو وفات پائی۔ عثمان اخنسی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس خبر میں سہو ہوا ہے کیونکہ حضرت عمر نے ۲۶ ذی الحجہ کو وفات پائی۔ ابو معشر کے نزدیک ۲۶ اور ہشام بن محمد کے نزدیک ۲۷ ذی الحجہ ہے۔
(تاریخ طبری جلد ۳ صفحہ ۲۱۷۔۲۱۸)
.
۵۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: واقدی کا بیان ہے کہ حضرت عمر پر بدھ کے روز حملہ ہوا جب کہ ۲۳ ہجری کے ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں۔
(البدایہ و النہایہ جلد ۷ صفحہ ۱۸۶)
.
۶۔ علامہ ابو الفداء: توفی (عمر) یوم السبت سلخ ذی الحجہ روز شنبہ کو حضرت عمر نے وفات پائی۔
(تاریخ ابوالفداء صفحہ ۱۲۲)
.
۷۔ تاریخ کامل کے مصنف نے بھی یہی لکھا ہے کہ ذی الحجہ کی چار راتیں باقی تھیں کہ آپ فوت ہو گئے اور یکم محرم کو دفن ہوئے۔
(الکامل جلد ۳ صفحہ ۵۲)
.
۸۔ ابن خلدون لکھتے ہیں: زخمی ہونے کے بعد برابر ذکر اللہ کرتے رہے یہاں تک کہ شب چہار شنبہ ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو اپنی خلافت کے ۱۰ برس ۶ مہینے بعد جان بحق تسلیم ہوئے۔
(تاریخ ابن خلدون جلد ۱ صفحہ ۳۰۷)
.
۹۔ امام اہلسنت جلال الدین سیوطی: ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ھجری کو شہید ہوئےاور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے۔
(تاریخ الخلفاء صفحہ ۱۳۹)
.
۱۰۔ ابن اثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر کی وفات ۲۶ ذی الحجہ کو ہوئی اور انتیس ذی الحجہ دو شنبہ کے دن حضرت عثمان کی بیعت کی گئی۔
(اسد الغابہ جلد ۲، صفحہ ۶۶۷)
.
آپ سب نے ملاحظہ کیا کہ قدیم علماء اہلسنت میں کس قدر اختلاف ہے۔ اور کتنی تواریخ ہیں یوم وفات پر۔ اب ہم جدید اہلسنت علماء کے اقوال نقل کرتے ہیں۔
۱۱۔ دور جدید کے مشہور سلفی متعصب مورخ دکتر محمد محمد الصلابی لکھتے ہیں: امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ۲۶ یا ۲۷ ذی الحجہ بروز بدھ ۲۳ ھجری میں حضرت عمر نے جام شہادت نوش کیا۔
(سیدنا عمر بن خطاب صفحہ ۸۲۴،۸۲۵)
.
۱۲۔ مشہور دیوبندی عالم مفتی زین العابدین میرٹھی لکھتے ہیں: حضرت عمر کی وفات زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ ہجری کو بدھ کی رات میں واقع ہوئی۔
(تاریخ ملت جلد ۱ صفحہ ۱۸۷)
.
۱۳۔ بر صغیر کے مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں: حضرت عمر کی شہادت ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ ہجری ۶۴۴ عیسوی۔
(الفاروق صفحہ ۱۷۷)
.
۱۴۔ امام اہلسنت اور بر صغیر میں مناظرے کا باب کھولنے والے شاہ عبدالعزیز دہلوی لکھتے ہیں: روز قتل حضرت عمر کا اٹھائیسویں ذی الحجہ کی بلا اختلاف اور دفن ان کا عزہ محرم۔
(تحفہ اثناء عشریہ باب ۹ صفحہ ۵۱۱)
.
آپ نے غور کیا کہ شاہ صاحب ۲۸ ذی الحجہ کو وفات عمر کو بلا اختلاف قرار دے رہے ہیں۔
.
۱۵۔ اسی طرح مصر کے مشہور مورخ محمد رضا مصری نے بھی ۲۴ ذی الحجہ ہی یوم وفات لکھی ہے۔
(سیرت عمر صفحہ ۳۲۹)
.
قارئین ہم نے قدیم اور جدید جید اور مستند علماء اہلسنت کے اقوال نقل کر دئیے ہیں جن سے ایک بات ثابت ہے کہ یوم وفات حضرت عمر ہر دور میں اختلافی رہی ہے۔ اب کچھ شر پسند لوگ کس بنیاد پر ۱ محرم کو یوم وفات مناتے ہیں ؟
.
ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﻮﻝ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
۔ 1 ۔ ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻝ ﯾﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﺒﯿﺲ 26 ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻋﻼﻣﮧ ﻗﻠﻘﺸﻨﺪﯼ ، ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻨﺠﺎﺭ ﺍﻟﺒﻐﺪﺍﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ۔
.
ﻋﻼﻣﮧ ﻗﻠﻘﺸﻨﺪﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻭﻃﻌﻨﻪ ﺃﺑﻮ ﻟﺆﻟﺆﺓ ﺍﻟﻔﺎﺭﺳﻲ ﻏﻼﻡ ﺍﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﺷﻌﺒﺔ ﻓﺒﻘﻲ ﺛﻼﺛﺎً ﻭﻣﺎﺕ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ ﺍﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻣﻦ ﺍﻟﻬﺠﺮﺓ
ﻧﻬﺎﻳﺔ ﺍﻷﺭﺏ ﻓﻲ ﻣﻌﺮﻓﺔ ﺃﻧﺴﺎﺏ ﺍﻟﻌﺮﺏ // ﺟﻠﺪ 1 // ﺻﻔﺤﮧ //152 ۔
.
ﺍﺳﯽ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻨﺠﺎﺭ ﺍﻟﺒﻐﺪﺍﺩﯼ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ،
ﻭﻛﺎﻧﺖ ﻭﻓﺎﺗﻪ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻳﻮﻡ ﺍﻷﺭﺑﻌﺎﺀ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ ﺍﻟﺤﺠﺔ ﺳﻨﺔ ﺛﻼﺙ ﻭﻋﺸﺮﻳﻦ ﻣﻦ ﺍﻟﻬﺠﺮﺓ ۔
ﺍﻟﺪﺭﺓ ﺍﻟﺜﻤﻴﻨﺔ ﻓﻲ ﺃﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﻤﺪﻳﻨﺔ // ﺫﮐﺮ ﻭﻓﺎﺕ ﻋﻤﺮ // ۔
.
ﻗﻠﻘﺸﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻨﺠﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﮐﯽ ﺗﺎﯾﺌﯿﺪ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﺷﺒﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﯿﮩﻘﯽ ﻧﮯ ﺳﻨﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ، ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﻠﺤﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
.
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﻮ ﺧﻄﺒﮧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺞ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﭼﮭﺒﯿﺲ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺞ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮨﻮ :
ﻗﺎﻝ ﺧﻄﺐ ﻟﮭﻢ ﯾﻮﻡ ﺍﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭ ﻣﺎﺕ ﯾﻮﻡ ﺍﻷﺭﺑﻌﺎﺀ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﯿﻦ ﻣﻦ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﺔ ۔
ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ ﻟﻠﺒﯿﮭﻘﯽ // ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ 16578 // ۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﻤﺪﯾﻨﺔ ﻷﺑﻦ ﺷﺒﺔ // ﺑﺎﺏ ﻣﻘﺘﻞ ﻋﻤﺮ // ۔
.
۔ 2 ۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻗﻮﻝ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮬﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﺟﻤﮭﻮﺭ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻟﺆﻟﺆ ﻧﮯ ﭼﮭﺒﯿﺲ 26 ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺞ ﮐﻮ ﺿﺮﺏ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺯﺧﻤﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﮭﯿﺐ ﺭﻭﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﺆﺭﺥ ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﺑﻦ ﻗﺘﯿﺒﮧ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ، ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮨﻮ ،
ﻭ ﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﻗﺘﯿﺒﺔ : ﺿﺮﺑﻪ ﺃﺑﻮ ﻟﺆﻟﺆﺓ ﻳﻮﻡ ﺍﻷﺛﻨﻴﻦ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ ﺍﻟﺤﺠﺔ، ﻭﻣﻜﺚ ﺛﻼﺛًﺎ، ﻭﺗﻮﻓﻲ، ﻓﺼﻠﻰ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺻﻬﻴﺐ ۔
ﺃﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﺔ ﻓﻲ ﻣﻌﺮﻓﺔ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﺔ // ﺟﻠﺪ //3 ﺻﻔﺤﮧ 676 // ۔
.
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﻠﻔﯽ ﻣﺤﻘﻖ ﺷﯿﺦ ﺷﻌﯿﺐ ﺍﻷﺭﻧﺆﻭﻁ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ، ﺷﯿﺦ ﺍﺭﻧﺆﻭﻁ ﺭﻗﻤﻄﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻭﻛﺎﻧﺖ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﻭﺳﺘﺔ ﺃﺷﻬﺮ، ﺿﺮﺑﻪ ﺃﺑﻮ ﻟﺆﻟﺆﺓ ﺍﻟﻤﺠﻮﺳﻲ ﻷﺭﺑﻊ ﺑﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺫﻱ ﺍﻟﺤﺠﺔ، ﻭﻣﻜﺚ ﺛﻼﺛﺎً ﻭﺗﻮﻓﻲ، ﻓﺼَﻠَّﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺻﻬﻴﺐٌ
ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﻟﻸﺣﻤﺪ // ﺗﺤﺖ ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ 82 // ﻣﺴﻨﺪ ﻋﻤﺮ // ۔
.
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺴﻌﻮﺩﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺑﻮﻟﻮﻟﻮﮦ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ۲۳ ﻭﺍﮞ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺪﮪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﺎﮦ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﺭﻭﺯ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﮯ۔ ‏
( ﻣﺮﻭﺝ ﺍﻟﺬﮨﺐ ﺟﻠﺪ۲، ﺻﻔﺤﮧ ۲۴۰)
.
ﻋﻼﻣﮧ ﺩﻧﯿﻮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﻣﺎﮦ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺭﺣﻠﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﮔﺌﮯ۔ ‏
( ﺍﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﻄﻮﺍﻝ ﺻﻔﺤﮧ ۱۳۹)
.
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻃﺒﺮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍٓﭖ ﻧﮯ ۲۶ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﻮ ﻭﺻﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎﺕ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ‏
( ﺭﯾﺎﺽ ﺍﻟﻨﻀﺮﮦ ﺟﻠﺪ ۲ ﺻﻔﺤﮧ ۳۳۵)
.
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻣﻮﺭﺥ ﻃﺒﺮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﭼﮩﺎﺭ ﺷﻨﺒﮧ ﮐﯽ ﺷﺐ ﮐﻮ ۲۷ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﺧﻨﺴﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺧﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻮ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ۲۶ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﻮ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺍﺑﻮ ﻣﻌﺸﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ۲۶ ﺍﻭﺭ ﮨﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ۲۷ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮨﮯ۔ ‏
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ﺟﻠﺪ ۳ ﺻﻔﺤﮧ ۲۱۷۔۲۱۸)
.
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﻭﺍﻗﺪﯼ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﭘﺮ ﺑﺪﮪ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺣﻤﻠﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﺐ ﮐﮧ ۲۳ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﮯ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
‏( ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭ ﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ﺟﻠﺪ ۷ ﺻﻔﺤﮧ ۱۸۶)
.
ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻔﺪﺍﺀ : ﺗﻮﻓﯽ ‏( ﻋﻤﺮ ‏) ﯾﻮﻡ ﺍﻟﺴﺒﺖ ﺳﻠﺦ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﺭﻭﺯ ﺷﻨﺒﮧ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ ‏
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﺪﺍﺀ ﺻﻔﺤﮧ ۱۲۲)
.
ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺫﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺷﺐ ﭼﮩﺎﺭ ﺷﻨﺒﮧ ۲۷ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ۱۰ ﺑﺮﺱ ۶ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎﻥ ﺑﺤﻖ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮨﻮﺋﮯ۔ ‏
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﺟﻠﺪ ۱ ﺻﻔﺤﮧ ۳۰۷)
.
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﯿﻮﻃﯽ :
ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﺪﮪ ﮐﮯ ﺩﻥ ۲۶ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ۲۳ ﮬﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯﺍﻭﺭ ﮨﻔﺘﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ۔ ‏
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎﺀ ﺻﻔﺤﮧ ۱۳۹)
حضرت عمر کو غسل میت اسکے دوست افلح نے دیکر حق دوستی ادا کر دیا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39
Gallery Image 40
Gallery Image 41
Gallery Image 42
Gallery Image 43
Gallery Image 44
Gallery Image 45
Gallery Image 46
Gallery Image 47
Gallery Image 48
Gallery Image 49
Gallery Image 50
Gallery Image 51
Gallery Image 52
Gallery Image 53
Gallery Image 54
Gallery Image 55
Gallery Image 56
Gallery Image 57
Gallery Image 58
Gallery Image 59
Gallery Image 60
Gallery Image 61
Gallery Image 62
Gallery Image 63
Gallery Image 64
Gallery Image 65
Gallery Image 66
Gallery Image 67
Gallery Image 68
Gallery Image 69
Gallery Image 70
Gallery Image 71
Gallery Image 72
Gallery Image 73
Gallery Image 74
Gallery Image 75
Gallery Image 76
Gallery Image 77
Gallery Image 78
Gallery Image 79
Gallery Image 80
Gallery Image 81
Gallery Image 82
Gallery Image 83
Gallery Image 84
Gallery Image 85
Gallery Image 86
Gallery Image 87
Gallery Image 88
Gallery Image 89
Gallery Image 90
Gallery Image 91
Gallery Image 92
Gallery Image 93
Gallery Image 94
Gallery Image 95
Gallery Image 96
Gallery Image 97
Gallery Image 98
Gallery Image 99
Gallery Image 100
Gallery Image 101
Gallery Image 102
Gallery Image 103
Gallery Image 104
Gallery Image 105
Gallery Image 106
Gallery Image 107
Gallery Image 108
Gallery Image 109
Gallery Image 110
Gallery Image 111
Gallery Image 112
Gallery Image 113
Gallery Image 114
Gallery Image 115
Gallery Image 116
Gallery Image 117
Gallery Image 118
Gallery Image 119
Gallery Image 120
Gallery Image 121
Gallery Image 122
Gallery Image 123
Gallery Image 124
Gallery Image 125
Gallery Image 126
Gallery Image 127
Gallery Image 128
Gallery Image 129
Gallery Image 130
Gallery Image 131
Gallery Image 132
Gallery Image 133
Gallery Image 134
Gallery Image 135
Gallery Image 136