Back to امام باقر ع
امام باقر ع و محمد بن ابی بکر کے تعلقات اور فضیلت ابوبکر پر مولوی معاویہ کو منہ توڑ جواب
اہلسنت والجماعت کے مولانا صاحب کی کل باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی زوجہ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت ام فروہ سلام اللہ علیہا حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر رض کی بیٹی تھی۔ اور یہ ابوبکر پر نانا تھے اسی لیے یہ بھی ابوبکر میں فضیلت اور اہلبیت ع کی محبت کا ثبوت ہے۔
اس کے جواب کے لئے ہم تین باتوں کی وضاحت کرے گے جس سے سارا مسئلہ واضح ہوجائے گا۔ قرآن مجیدحدیث میں معیار فضلیت کس چیز کو قرار دیا گیا ہے؟ حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارف ( جو بقول مولانا صاحب کے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پر نانا تھے) اور محمد بن ابی بکر کا اپنے باپ کے بارے نظریہ کیا تھا؟ کیا قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ (جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے نانا جان تھے) سے مراد قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ہیں یا پھر قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ کوئی اور شخصیت ہیں؟
ّ
وٙ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹) ترجمہ : اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست ہے۔ (پ25 ، الجاثیۃ : 19)
قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضلیت کا معیار تقوی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
حوالہ : [ معجم الاوسط - جلد ۳ - صفحہ ۳۲۹ - الحدیث ۴۷۴۹ ]
بغیر ایمان و تقویٰ کے رشتے داری کچھ فائدہ نہیں دے گی قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں تھیں اگرچہ وہ نبی کی رشتےدار تھیں مگر ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں جہنم کی وعید سنائی ہے اور ان کو رشتے داری نے کچھ فائدہ نہ دیا۔
اس کے برعکس حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا کو فرعون کی زوجہ تھیں اور نبی کی خونی رشتے دار نہیں تھی ( البتہ حضرت موسیؑ نے انہی کی گود میں پرورش پائی تھی ) یہ بی بی فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ کے گھر رہتے ہوئے بھی اہل ایمان میں سے تھیں اور روایات میں ملتا ہے کہ انتہائی پرہیزگار تھیں قرآن مجید میں اس بی بی کے بارے میں ارشاد قدرت ہوتا ہے:
پورا نام : محمد بن عبداللہ بن عثمان
مشہور نام : محمد بن ابی بکر
والد کا نام : حضرت ابوبکر
والدہ کا نام : حضرت اسماء بنت عمیس سلام اللہ علیہا
تاریخ پیدائش : 25 ذی القعدہ 10 ہجری بمقام ذوالحلیفہ
صحابیت :
حوالہ : [ تقریب التہذیب (اردو) ، جلد دوم ، صفحہ ٦٢ ]
اس کے علاؤہ ابن حبان ، ابو نعیم ، علامہ ذہبی نے تجرید اسماء الصحابہ میں اور اسد الغابہ میں ان کا ذکر طبقات صحابہ میں کیا گیا ہے حضرت علی علیہ السلام نے انکی پرورش کی حضرت اسماء بنت عمیس نے ابوبکر کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے شادی کی تو محمد بن ابی بکر انکے ربیب ہو گئے یہ یحییٰ بن علی اور عبداللہ بن جعفر کے اخیافی (جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف یعنی سوتیلے بھائی) بھائی تھے یہ بڑے عبادت گزار اور صاحب فضل و علم تھے اس لئے امیر المومنین علیہ السلام اس کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ : [ نہج البلاغہ - خطبہ ۶۶ - صفحہ ١٩٢ ]
محمد بن ابی بکر جسطرح سےاپنے والد اور خلیفہ سوم کے شدید مخالف اور ان سے براءت و بیزاری کا اظہار کرتے تھے اسی طرح سے خلیفہ دوم کے بھی شدید مخالف تھے اور انہیں بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ امام باقرؑ سے روایت میں وارد ہوا ہے کہ
حوالہ : [ رجال الکشی - صفحہ ۵٣ ]
حوالہ : [ رجال الکشی - صفحہ ۵٣ ]
حوالہ : [ مصنف ابن ابی شیبہ - ج١١ - صفحہ ٦٨٣ : تاریخ ابن اعثم کوفی - صفحہ ١٩۵ ]
تو اس کے بارے میں شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ آملی صاحب کی تحقیق انیق یہ ہے کہ یہ قاسم بن محمد بن ابی بکر نہیں تھے مورخین کو مغالطہ ہؤا ہے وہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
حوالہ : [ احسن الجوابات - حصہ اول - صفحہ ٦۴ ]

Gallery
Tap any image to view full screen