Back to امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع
کیا حضرت فاطمہؑ اور مولا علیؑ کا جھگڑا ہوا اور حضور اکرم (ص) نے صلح کروائی ؟
جواب
ہم کچھ وقت گھر سے باہر انتظار کیا ہم نے بلند آواز کے ساتھ گھر سے ہنسی کی آواز سنی ، کچھ دیر بعد رسول خدا ﷺوآله خوشی کے ساتھ باہر آئے، ہم نے کہا یا رسول اللَّه گھر میں محزون داخل ہوئے تھے اور خوشی کے ساتھ باہر نکلے، وجہ کیا ہے؟
حضرتؐ نے فرمایا کہ کیسے مسرور اور خوش نہ ہو جاوں حالانکہ میں نے دو ایسے ہستیوں کے درمیان صلح کی جو مجھے تمام اہل زمین اور اہل آسمان سے زیادہ محبوب ہیں
حوالہ : [ علل الشرائع - جلد ١ - صفحہ ١۵٦ ، ١۵٧ ]
جواب : اس کی سند کے بیان کرنے والے ابوہریرہ ہے، موصوف کا شیعوں کے نزدیک کذاب اور غیر معتمد ہونا اظہر من الشمس ہے۔
اس روایت کی سند میں "حسن بن علی سکری" ، "حسین بن حسان عبدی" ، "عبد العزیز بن مسلم" ، " یحیی بن عبدالله " اور اسکے باپ مجاھیل ہیں یہ پوری سند تقریبا اہلسنت راویان سے بھری ہے۔
١) أبو سعيد الحسن بن علي السكري :
حوالہ : [ مستدركات علم رجال الحديث - جلد ٢ - ص ٤٥٤ ]
حوالہ : [ سیر اعلام النبلاء - جلد ١٣ - ص ١٢٧ ]
٢) عبد العزيز بن مسلم :
حوالہ : [ سیر اعلام النبلاء - جلد ٨ - ص ١٩٢ ]
٣) یحیی بن عبدالله :
۴) ابوهریرة الدّوسیّ :
حوالہ : [ مستدرکات علم رجال الحدیث - جلد ٨ - صفحہ ۴٧۵ ]
حوالہ : [ علل الشرائع - جلد ١ - صفحہ ١٥٦ ]
تبصرہ: ناظرین جب خود مصنف نے روایت کو نہیں مانا اور پھر صحیح وجہ بیان کی اور اس روایت کی سند ضعیف ہے، تو اس سے استدلال کیسا؟

Gallery
Tap any image to view full screen