Back to صحابہ

جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا

جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا
ایک مہشور حدیث ملتی ہے جس کا متن یوں ہے
” جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا ، جب ستاروں کا ذکر ہو تو خاموش رہنا اور جب تقدیر کے مسئلے کا ذکر ہو تو خاموش رہنا ”
اس روایت کو سلفی عالم شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ میں نقل کیا ہے اور اسکو حسن قرار دیا ہے
پاکستان کے مہشور محدث زبیر علی زائی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد محترم خرم شہزاد نے سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ پر تحقیق کر کے اس میں کچھ ضعیف روایات جمع کی ہیں اور اس باب میں ایک کتاب تالیف کی جس میں اس روایت کو بھی شامل کیا ہے ۰ چناچہ وہ یوں لکھتے ہے :
۸ – یہ حدیث ضعیف ہے
اس حدیث کو علامہ البانی نے سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ جلد اول قسم اول حدیث نمبر ۳۴ پر نقل کیا ہے اور امام عراقی اور ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے ، یہ حدیث اپنے تمام طرق کے ساتھ ضعیف ہے وضاحت پیش خدمت ہے ۔
پھر انہوں نے اسکے ۶ طرق پر بات کی ہے اور تمام طرق کو ضعیف ثابت کر دیا ہے
حوالہ : الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ من سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی // رقم ۸ // صفحہ ۵۰ // طبع : مکتبہ اسلامیہ پاکستان

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7