Back to امہات المومنین

عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ کو کہا ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔

عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
عائشہ بنت ابی بکر  اور حفصہ کو کہا  ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔
خدا نے عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ کو کہا ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔ (التحریم- 4)اور رسول خدا نے کہا یہ صواحب یوسف ہیں۔(بخاری- 679) اور یہ کوئی معمولی باتیں نہیں تھیں۔
عائشہ نے رسول خدا کے بیٹے ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُا کے بطن سے متولد ہوئے اس پر الزام لگایا کہ نعوذ باللہ نبی کا بیٹا نہیں ۔ اور یہ بہتان اس نے نبی پاک کے سامنے لگایا۔
اس بات کو مولا علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بیان کیا
رسول خدا سے بھی یہ بات مروی ہے
امام باقر علیہ السلام نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی
اس واقعی کی تصدیق اہلسنت کی کتب سے بھی ہوتی ہے۔
اس واقع کو کانٹ چھانٹ کر صحیح مسلم نے لکھا شیخ البانی نے بھی کچھ حصہ بیان کیا اور مسند احمد بن حنبل نے بھی کچھ حصہ نقل کیا ۔
لیکن بہتان والا واقعہ مستدرک الحاکم نے بھی نقل کیا جہاں اس نے عائشہ کا قول نقل کیا کہ ماریہ قبطیہ کے ناجائز تعلقات اپنے کزن کیساتھ تھے اور وہ اس سے حاملہ ہوئی تھیں۔ نعوذباللہ استغفراللّٰہ۔
جب کہ وہ شخص نامرد تھا۔ عائشہ کو ماریہ قبطیہ سے بہت بغض تھا کیونکہ اسکی اولاد تھی اور عائشہ کی اولاد نہیں تھی اور سوکن سے یہ حسد اس حد تک بڑھ گیا اس نے سنگین قسم کے بہتان لگائے۔
تمام سکین ساتھ میں لگا رہا ہوں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26