Back to حضرت عمر
شیطان حضرت عمر کو دیکھ کر راستہ بدل لیتا تھا لیکن رسول اللّٰه ﷺ کی نماز میں حائل ہو جاتا تھا (معاذاللہ)
ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ، لیکن اللہ تعالی نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا۔

کیا شیطان عمر کے سائے سے بھی بھاگتا ہے؟
’حضرت سعد بن ابن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں خوب اونچی آواز سے گفتگو کر رہی تھیں۔ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور پردے میں چلی گئیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرانے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ! اﷲ تعالیٰ آپ کے دندانِ مبارک کو تبسم ریز رکھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ان عورتوں پر حیران ہوں جو میرے پاس تھیں کہ جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو پردے میں چھپ گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ! آپ زیادہ حق دار ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟ عورتوں نے جواب دیا ہاں! آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں سخت گیر اور سخت دل ہیں۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب! اس بات کو چھوڑو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! جب شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو تمہارے راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔‘(بخاری شریف3294)
کسی شخص نے حضرت عمر کے پاس قرآن پڑھا ھے تو حضرت عمر کو غصہ آیا اس نے کہا کہ میں نے یہی اٰیت پیغمبرؐ کے سامنے پڑھی ھے تو رسول کریم ؐ کو کوئی غصہ نہیں آیا آپ کو کیوں غصہ آیا کہ ھم (عمر خود کہتا ھے )چلے گئے رسول کریم ؐ کے پاس تو اس نے وھی آیت پڑھی آپؐ نے فرمایا اچھا پڑھا ھے تم نے ، حضرت عمر کے دل میں شک آگیا تو رسول خدا نے فرمایا اے عمر قرآن سب صیحح ھے پس قرآن پڑتے جاو عذاب کو مغفرت نہ بناو اور مغفرت کو عذاب نہ بناو
مجمع الزوائد و منبع الفوائد جلد سابع حدیث نمبر 11570 صفحہ نمبر 313-314
اسی حدیث کو تفسیر طبری جلد 1 صفحہ 25 حدیث نمبر 16میں تحریر ھے کہ کسی شخص نے حضرت عمر کے پاس قرآن پڑھا ھے تو حضرت عمر کو غصہ آیا اس نے کہا کہ میں نے یہی اٰیت پیغمبرؐ کے سامنے پڑھی ھے تو رسول کریم ؐ کو کوئی غصہ نہیں آیا دونوں چلے گئے نبی کریم ؐ کے پاس اور کہا رسول اللہ کیا آہ نے وہ آیت مجھے اسطرح نہیں تعلیم دی تھی پیغمبرؐ نے فرمایا جی ھاں تو عمر کے دل میں کوئی بات آگئی تو پیغمبر کو عمر کے چہرے پتہ چل گیا تو نبی کریم نے عمرکے سینے پر مارا اور فرمایا دفعہ ھو جا شیطان آپؐ نے یہ بات تین دفعہ بولی
کیا دنیا میں انبیاء سے بڑھ کر کوئی افضل ہے
نہیں
کیا حضرت آدم نبی تھے
جی بالکل.
کیا حضرت آدم کے پاس شیطان گیا تھا
جی بالکل ۔ اس میں کوئی شک نہیں۔
اچھا پھر یہ بتائیں کہ
جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس شیطان جاسکتا ہے تو حضرت عمر کے پاس کیوں نہیں؟؟؟
جبکہ تم یہ کہتے نظر آتے ھو کہ شیطان حضرت عمر سے ڈرتا تھا۔

Gallery
Tap any image to view full screen